تم اُسی سیپ کا موتی ہو
Poet: Shama Ansari By: Shama, Gujranwala (JWS) تیرے تصور میں ڈوبی زباں بند کلی
گزرتے ہوئے ہر اک لمحے کی سودائی
جب آنکھیں موندے خواب سجاتی ہے
تو کیا دیکھتی ہے؟
وہ عکس یا سراپاء خوشبو؟
مخمور شفق و ماہتاب نگاہ نازنیں یا پھر؟
دلکش صدف (سیپ) جو ساحل سمندر
میں کہیں غوطہ زن ہو جاتا ہے
جب شورش آب تھک کر زمین بوس ہو جاتی ہے
تو ساحل کے مکین ریت میں کچھ تلاش کرتے ہیں
تیرے تصور میں ڈوبی زبان بند کلی
کبھی خود کو تنہا تجھ سے نہیں کرتی، شمع نام ہے تیرے
انہی نگاہوں میں اک تو حسن ہے پیوستہ
شام کے دھندلکوں میں بادل اُمڈ اُڈ کر آتے ہیں
اور جب تلاش منزل رستہ کھو دیتی ہے
جستجو میری مسافر کی مانند تھک کر جو اک سیپ پاتی پے
تم اُسی سیپ کا موتی ہو
تم اُسی سیپ کا موتی ہو
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







