تم اپنے آپ سے مایوس کیوں ہو

Poet: Muhammad Anwer Annu By: Muhammad Anwer, Karachi

تم اپنے آپ سے مایوس کیوں ہو
اس زندگی سے نا خوش کیوں ہو

آس پاس تم دیکھتی کیوں نہیں
خوش رہنے کے بہانے ڈھونڈتی کیوں نہیں

تمہیں دیکھ کر سب پریشان ہوتے ہیں
تمہاری حالت پر فکر مند ہوتے ہیں

تم نے اپنی زندگی کو شائد محدود کرلیا
خدا کی نعمتوں سے اپنے کو دور کرلیا

پگلی مایوسی تو کفر ہے
خدا کی نعمتوں سے انکاری ہے

چلو آج تم خوش ہوجاؤ
اپنے آپ کو دیکھ کر مطمئین ہوجاؤ

مایوسی کی باتیں چھوڑ کر مسکرا جاؤ
جو مل گیا اس پر خوش ہوجاؤ

دیکھو ملتا نہیں سب کچھ سب کو
کم از کم میرے لیئے خوش ہوجاؤ

Rate it:
Views: 540
07 Aug, 2010
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL