تم اپنے دل سے مٹا ڈالو اب نشاں میرا

Poet: dr.zahid sheikh By: dr.zahid sheikh, lahore,pakistan

ستم شعار ہوا مجھ پہ مہرباں میرا
کیوں ڈھل گیا کسی صحرا میں گلستاں میرا

میں موسموں سے سہم کر بتا کہاں جاؤں
کہ آندھیوں نے گرا ڈالا آشیاں میرا

میں نیند میں ہی رہا صبح کے اجالے تلک
روانہ ہو گیا شب میں ہی کارواں میرا

میں عمر بھر کے لیے کیسے تم کو اپناؤں
تمھارے رہنے کے قابل نہیں مکاں میرا

میں خود سے بھی ہوں بہت دور تم سےکیسے ملوں
تم اپنے دل سے مٹا ڈالو اب نشاں میرا

پروں کو کاٹا و آزاد کر دیا مجھ کو
ہے کس قدر مرا صیاد مہرباں میرا

نہ پوچھ میں نے کبھی دل پہ چوٹ کھائی ہے
غزل میں ہو تو چکا حال دل بیاں میرا

زباں پہ رہتی ہے دشنام گرچہ میرے لیے
عزیز پھر بھی ہے مجھ کو وہ بدزباں میرا

کیا منتظر ہی رہوں تیری التفات ہو کب
ہوا نہیں ہے ابھی پیار کیا عیاں میرا

وہی تو ہے مری رسوائی کا سبب زاہد
جو کل تلک تھا مرا دوست , رازداں میرا

Rate it:
Views: 1960
18 Dec, 2012
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL