تم بدل گئے ہو

Poet: Majassaf Imran By: Majassaf Imran, Gujrat

میری سُر ساز کی ملکہ میری سانسوں کی ہوا
تم بدل گئے ہو

کِس کے پیار میں آگئے ہو
کِس کی محبت میں پھس گئے ہو
تم بدل گئے ہو

میری باتیں میرا ہسنا آخرکیوں نہیں گوارا
کیوں مجھ سے بچھڑ رہے ہو
تم بدل گیے ہو

وہ وعدے وہ قسمیں شاید کہ جھوٹ تھی
کیوں راستے سے تم بچھڑ رہے ہو
تم بدل رہے ہو

تیرے ہاتھ ہیں کیوں رنگے ہوئے
کِس کا عشق کِس کا خون پی رہے ہو
تم بدل گئے ہو

نہ وہم تھا نہ گُماں تھا شام بھی آئے گئی
کِس سِمت نِکل گئے ہو
تم بدل گئے ہو

میرے اشک بے معانی میرا عشق بے معانی
پتھر ہو گئے ہو
تم بدل گئے ہو

سنو! شاید کسی محبت کا نام لیتے تھے
اے محبت کہاں ہو تم
تم بدل گئے ہو

سنو! تم کوئی وعدہ نِبانے کی بات کرتے تھے
اب بات سےنفیس مُکر گئے ہو
تم بدل گئے ہو

Rate it:
Views: 1885
11 Feb, 2018
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL