تم خود کو بھول جاؤ گے گر تم کو بھلا دوں
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillتم نے جو کہا یاد کا ہر نقش مٹا دوں
چل ساتھ تو پھر اشک سمندر میں گرا دوں
ہیں میرے اختیار میں ہاتھوں کی لکیریں
میں چاہوں تو ہر خواب کو تعبیر بنا دوں
کچھ دیر تیری یاد کے دامن سے لپٹ کر
جی چاہتا ہے عمر کا ہر روگ بھلا دوں
سرکش سا ہو چلا ہے تیرے ساتھ کے بل پر
کیوں نہ ذرا خیال کو آئینہ دکھا دوں
تھامی وہ کلائی تو صدا غیب سے آئی
میں حسن ہوں یوسف کو بھی بن مول بکا دوں
ہر روپ پر عیاں ہے غم شہر تمنا
سب طالب سکون ہیں کس کس کو دعا دوں
اتنا یقیں تو مجھکو بھی ہے اپنے شوق پر
تم خود کو بھول جاؤ گے گر تم کو بھلا دوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






