تم دل کو چھو گئے ہو عقیدت کی آڑ میں
Poet: rehan abbas By: rehan , lahoreعادت سی ہو گئی ہے محبت کی آڑ میں
تم دل کو چھو گئے ہو عقیدت کی آڑ میں
تم کوجو ہو پسند وہی نام دیجیے
اک رشتہ مجھ کو چاہیے الفت کی آڑ میں
میں جانتا ہوں آپ کو پانا محال ہے
خوش فہم دل مگر ہے مروت کی آڑ میں
تم کتنے قیمتی تھے یہ مجھ سے تو پوچھتے
کیوں خود کو بانٹ آئے ہو قسمت کی آڑ میں
اک لطفِ بے مثال تری جستجو میں ہے
اک ربطِ لاجواب ہے فرقت کی آڑ میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






