تم رو پڑو
Poet: majassaf imran By: majassaf imran, gujratہم عِشق کی چَکی میں پیسے لوگ ہیں یہ کہانی میں تم کو سُناؤں تو تم روپڑو
کیسے گزری زندگی اپنی کھول کے کتاب تُجھ کو میں دیکھاؤں تو تم رو پڑو
جِس کو ہم نے زندگی سے بڑ کے چاہا اُس نے ہمیں اک پَل کیلے بھی نہ چاہا
جو ہم سے کرتے تھے لوگ محبت پڑھ کے حَط اُن کے میں سُناؤں تو تم رو پڑو
ہر گھڑی ہر جگہ ہم نَفِیس عِشق کےہاتھوں بہت شرم سار ہوے ہیں
کہاں کہاں گھٹنےٹیک دیےعِشق کے آگےیہ بات تُجھ کو میں بتاؤں تم رو پڑو
وہ ماصوم سی آنکھیں اور آنکھوں پہ چَشمہ کیا صورت بتاؤں،مجسف، یار کی
وہ انسان تھا کہ فرشتہ تصویرےِ یار میں اگر تُجھ کو دیکھاؤں تو تم رو پڑو۔
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






