تم سچے سے لگتے ہو
Poet: Dilkash Mariam By: Dilkash Mariam, chiniotتم سچے سے لگتے ہو
مگر محبت سے ڈرتے ہو
اکثر کھوئے سے رہتے ہو
کیا بات سوچتے رہتے ہو
ہو نہ جاؤ راکھ تم
کیوں تنہا تنہا جلتے ہو
اک بات کہوں تم سے
میرے دل میں رہتے ہو
کیوں تکتے ہو چاند کو
کب رات کو سوتےہو
کتنی حیرت سی ہوتی ہے
مجھے دیکھ کر جب رکتے ہو
اچھا لگا یہ جان کر
تم یاد مجھکو کرتے ہو
پیار نہیں جب مجھ سے
کیوں پھر تم لڑتے ہو
کھو جاتی ہوں اسوقت
مجھ سے جب تم ملتے ہو
ہوائیں ٹھر جاتی ہیں
میرے ساتھ جب چلتے ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






