تم شام سے پہلے گھر آجانا
Poet: babar faruqi By: babar faruqi, karachiباغ کی سیر کو اگر جانا
شام سے پہلے گھر آ جانا
تمھاری اُڑی اُڑی سی زلفوں میں
کسی تیز ہوا کے جھنکوں سے
کوی پھول اُسمیں نہ گھر کر لے
تم شام سے پہلے گھر آ جانا
ممکن ہے کوی نرم ٹہنی
تمھارے شانوں پے آ جھولے
اورپیار سے تیرا رستہ روکے
تم شام سے پہلے گھر آجانا
کوی بھنورا پھُول سمجھ کر
تیرے ماتھے کا بوسہ لے لے
یا چنچل ہوا کا جھوُنکا
تیرے انچل کو اُڑا ڈاے
تم شام سے پہلے گھر آجانا
بادل کاکوی منچلہ ٹکُٹرا
تیرے جسم و جاں کو تر کر دے
تیرے تر و تازہ گلاب ہونٹوں کو
کوی پروانہ حصولِ جستجوکر لے
تم شام سے پہلے گھر آ جانا
اس سے پہلے کہ اندھیرا چھاےَ
اور چاند بھی دیکھ کر شرماےِ
اسی لیے کہتا ہوں جاناں
تم شام سے پہلے گھر آ جانا
بابر فاروقی 4نومبر2015
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






