تم عاشقی کو کھیل سمجھتے رہے ندیم
Poet: N A D E E M M U R A D ندیم مراد By: ندیم مراد N A D E E M M U R A D, UMTATA SOUTHAFRICAکرتے رہے خطا پہ خطا بار بار ہم
الفت میں میں ہو گئے ہیں جُنوں آشکار ہم
کھلنے لگے ریاضِ محبت کے ہم پہ در
روئے تھے آج رات فقط زار زار ہم
نو عمر اتنے جیسے کوئی ادھ کھلا گلاب
دھول اتنی تجربات کی جیسے غبار ہم
کیسے لکھیں جنوں کی حکایاتِ خونچکاں
سینے میں ایک نعش ہے اور ہیں مزار ہم
ہم پر گزر گئے ہیں کئی سانحاتِ غم
زندہ ہیں کاٹ کر بھی شبِ انتظار ہم
تم عاشقی کو کھیل سمجھتے رہے ندیم
اور دل کا کھیل، کھیل کے، سینہ فگار ہم
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






