تم میری ہر وحشت کی آگ پے
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaنجانے میں کیا سوچ کر
تمہیں کچھ نہیں کہتی
جب تم مجھے نظر انداز کر دیتے ہو
مگر اک عجیب سی خلش میرے
دل ہی دل میں بس جاتی ہے
جو اندر ہی اندر گہن کی طرح
ہر پل مجھے کھاتی ہے
جو مجھے ہسنے نہیں دیتی ہے
جو مجھے رونے نہیں دیتی ہے
یہ کیسی بے بسی ہوتی ہیں
جو چین سے مجھے
سونے نہیں دیتی ہے
جو مجھ میں لاکھوں
سوال برپا کر دتی ہے
جن کے جواب ڈھونڈتے ڈھونڈتے
اکثر میری روح تک تھک جاتی ہے
مگر یہ عجیب سے کیفیت
ُاس وقت کہا جاتی ہیں ؟
جب تم مجھے اپنی جان کہتے ہو
جب تم مجھے اپنا ارمان کہتے ہو
تب تم صرف اک لفظ سے
مجھے اور میرے ہر سوال کو
بے جان کر دیتے ہو
میں کیا کہہ رہی ہوتی ہوں
میں کیا سوچ رہی ہوتی ہوں
تم میری ہر وحشت کی آگ پے
اپنی محبت کی برسات کر دیتے ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






