تم میں ہے اِک نشہ بھرا جاناں
Poet: جنید عطاری By: جنید عطاری, چکوالتم میں ہے اِک نشہ بھرا جاناں
جس نے مدہوش کر دیا جاناں
جس گھڑی لے لیا تھا بانہوں میں
بس کے قابو سے بس گیا جاناں
زہر سا جام پی کے لب سے میں
ہوش اور خرد کھو چکا جاناں
عالمِ مستیِ رفاقت میں
جاناناں، کچھ تو اب پلا جاناں
بیچی سورج کو روشنی جس نے
رخِ روشن وہی ترا جاناں
تم حسینِ جہان ہو جانم
حسن تم پر ہے مر مٹا جاناں
ہو گیا گنگ ہی سخن میرا
عقل سے تم ہو ماوراء جاناں
گِھستے گِھستے لفاظِ مدحت میں
لب جلے، چھل گیا گلا جاناں
اب نہیں کوئی بھی ہوس باقی
جستجو تُم پہ ہے فنا جاناں
ہے ندامت کہ میری جاں تجھ پر
چاہ کر بھی نہیں مرا جاناں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






