تم نہ آئے ابھی ، تم نہ آئے ابھی
Poet: Khalili Qasmi By: خلیلی قاسمی, دیوبند، انڈیاتم نہ آئے ابھی ، تم نہ آئے ابھی
چڑیاں اپنے نشیمن کو واپس ہوئیں
روئے خورشید کی کرنیں مدھم پڑیں
سایہ مٹنے لگا، شام ڈھلنے لگی
رت بدلنے لگی، رات آنے لگی
تم نہ آئے ابھی ، تم نہ آئے ابھی
لو صبا کے تھپیڑے بھی چلنے لگے
آسماں پر ستارے چمکنے لگے
چپکے چپکے اندھیرا بھی چھانے لگا
چاند اگنے لگا، شمع جلنے لگی
تم نہ آئے ابھی، تم نہ آئے ابھی
منتظر ہیں تری بستروں کی شکن
چوڑیوں کی کھنک، پائلوں کا بھجن
رات آدھی ہوئی، نیند غائب ہوئی
تن اکڑنے لگا، آنکھ جلنے لگی
تم نہ آئے ابھی، تم نہ آئے ابھی
پَو پھٹی صبح کی، مرغ نے بانگ دی
مسجدوں سے صدائے موٴذن اٹھی
مندروں میں بھی ناقوس بجنے لگے
رات جانے لگی، صبح آنے لگی
تم نہ آئے ابھی، تم نہ آئے ابھی
بدلیوں کے پرے، چہرہ ڈھانپے ہوئے
اک عروسِ فلک، رخ سجائے ہوئے
سوچتی ہے اسے کب اجازت ملے
سانس گھٹنے لگا، آس مرنے لگی
تم نہ آئے ابھی، تم نہ آئے ابھی
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






