تم نہ آئے ابھی ، تم نہ آئے ابھی
Poet: Khalili Qasmi By: خلیلی قاسمی, دیوبند، انڈیاتم نہ آئے ابھی ، تم نہ آئے ابھی
چڑیاں اپنے نشیمن کو واپس ہوئیں
روئے خورشید کی کرنیں مدھم پڑیں
سایہ مٹنے لگا، شام ڈھلنے لگی
رت بدلنے لگی، رات آنے لگی
تم نہ آئے ابھی ، تم نہ آئے ابھی
لو صبا کے تھپیڑے بھی چلنے لگے
آسماں پر ستارے چمکنے لگے
چپکے چپکے اندھیرا بھی چھانے لگا
چاند اگنے لگا، شمع جلنے لگی
تم نہ آئے ابھی، تم نہ آئے ابھی
منتظر ہیں تری بستروں کی شکن
چوڑیوں کی کھنک، پائلوں کا بھجن
رات آدھی ہوئی، نیند غائب ہوئی
تن اکڑنے لگا، آنکھ جلنے لگی
تم نہ آئے ابھی، تم نہ آئے ابھی
پَو پھٹی صبح کی، مرغ نے بانگ دی
مسجدوں سے صدائے موٴذن اٹھی
مندروں میں بھی ناقوس بجنے لگے
رات جانے لگی، صبح آنے لگی
تم نہ آئے ابھی، تم نہ آئے ابھی
بدلیوں کے پرے، چہرہ ڈھانپے ہوئے
اک عروسِ فلک، رخ سجائے ہوئے
سوچتی ہے اسے کب اجازت ملے
سانس گھٹنے لگا، آس مرنے لگی
تم نہ آئے ابھی، تم نہ آئے ابھی
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






