تم نہ آئے ابھی ، تم نہ آئے ابھی

Poet: Khalili Qasmi By: خلیلی قاسمی, دیوبند، انڈیا

تم نہ آئے ابھی ، تم نہ آئے ابھی

چڑیاں اپنے نشیمن کو واپس ہوئیں
روئے خورشید کی کرنیں مدھم پڑیں

سایہ مٹنے لگا، شام ڈھلنے لگی
رت بدلنے لگی، رات آنے لگی

تم نہ آئے ابھی ، تم نہ آئے ابھی

لو صبا کے تھپیڑے بھی چلنے لگے
آسماں پر ستارے چمکنے لگے

چپکے چپکے اندھیرا بھی چھانے لگا
چاند اگنے لگا، شمع جلنے لگی

تم نہ آئے ابھی، تم نہ آئے ابھی

منتظر ہیں تری بستروں کی شکن
چوڑیوں کی کھنک، پائلوں کا بھجن

رات آدھی ہوئی، نیند غائب ہوئی
تن اکڑنے لگا، آنکھ جلنے لگی

تم نہ آئے ابھی، تم نہ آئے ابھی

پَو پھٹی صبح کی، مرغ نے بانگ دی
مسجدوں سے صدائے موٴذن اٹھی

مندروں میں بھی ناقوس بجنے لگے
رات جانے لگی، صبح آنے لگی

تم نہ آئے ابھی، تم نہ آئے ابھی

بدلیوں کے پرے، چہرہ ڈھانپے ہوئے
اک عروسِ فلک، رخ سجائے ہوئے

سوچتی ہے اسے کب اجازت ملے
سانس گھٹنے لگا، آس مرنے لگی

تم نہ آئے ابھی، تم نہ آئے ابھی

Rate it:
Views: 657
23 Mar, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL