تم نے جب زلف پریشاں کو سنوارا ہوگا
Poet: معیز By: معیز, Abbottabadتم نے جب زلف پریشاں کو سنوارا ہوگا
صدقۂ حسن گھٹاؤں نے اتارا ہوگا
آپ کی چشم کرم کا جو اشارہ ہوگا
اوج پر میرے مقدر کا ستارہ ہوگا
سنگ دل تیرے بھی آنسو نکل آئے ہوں گے
ڈوبنے والے نے جب تجھ کو پکارا ہوگا
میں نے الزام خوشی سے لیے سب اپنے سر
آپ بدنام ہوں یہ کس کو گوارہ ہوگا
کچھ تو قسمت کی ہے سازش مری بربادی میں
اور کچھ ان کی بھی نظروں کا اشارہ ہوگا
کیا غرض اس کو زمانے کی خوشی سے دانشؔ
یار کا غم ہی جسے جان سے پیارا ہوگا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






