تم نے جنکا اعتبار نہیں کیا
Poet: UA By: UA, Lahoreمیں جھوٹ نہیں کہتی تھی
وہ سب باتیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم نے جنکا اعتبار نہیں کیا
میں کہا تھا تمہارا لگایا
ہر زخم میرے دل میں
شگاف پیدا کر رہا ہے
میر دل ٹکڑے ٹکڑے ہو رہا ہے
لمحہ لمحہ بکھر رہا ہے
اب اور نئے ستم نہ ڈھانا
کوئی اور نیا زخم نہ لگانا
کہ اب میرے دل کا کوئی گوشہ
زخم سہنے کے قابل نہیں رہا ہے
تم مجھے آزماتے رہے ۔۔۔آزماتے رہے
میرا دل تمہاری ہر آزمائش ہر فرمائش
پوری کرتا رہا۔۔۔۔۔پوری کرتا رہا
لیکن تمہیں کیا پتا۔۔۔۔۔۔
کہ اس آزمائش کو پورا کرتے کرتے
میرا دل کیا سے کیا ہو گیا
تم نے مجھے آزما لیا
لیکن تمہری آزمائشوں نے
میرا دل ہی جیون کھا لیا
میں تڑپتی رہی
سسکتی رہی
ایک نظر التفات کے لئے
تیری پیار بھری نظر
تیرے سچے جذبات کے لئے
لیکن تم نے پرواہ نہ کی
میری ہر ایک بات کو
ہنسی میں اڑا دیا
میں نے کہا تھا
مجھے اس قدر نہ آزمانا
انتظار کی سولی پہ
اس درجہ نہ چڑھانا
کہ میری آنکھوں کی پتلیاں
امڈتے اشکوں کا
بوجھ نہ سہار سکیں
تمہیں پکارنا چاہیں
لیکن نہ پکار سکیں
تم نے ستم کی حد کر دی
میری آنکھوں نے ضبط کھو دیا
وہ سارے اشک جو میں نے
کسی خزینے کی طرح
سب سے چھپا کے رکھے تھے
آنکھوں کی پتلیوں میں دبا کے رکھے تھے
لٹا بیٹھی ہیں ۔۔۔ میری آنکھیں
اشکوں کے سارے موتی
گنوا بیٹھی ہیں
میری آنکھوں میں اشک باقی نہ رہے
نہ دل میں کوئی ارماں جواں ہے
میرا دل فنا ہو چکا ہے
میرا وجود بنجر زمین کا وہ ٹکڑا ہے
جسے نہ اب بادل سے کوئی غرض
نہ بارش کا کوئی ارماں ہے
جب میں نے چاہا تم نے پرواہ نہ کی
نہ میری کوئی بات سنی
نہ پوری کوئی التجا کی
میرا دل دکھ سے بھر گیا ہے
ستم اٹھانے کا عادی ہو گیا ہے
کوئی خوشی میرے دکھ کا
مداوا نہ کر سکے گی
تیری محبت کے لمس کا اثر
اب میرے لئے بے اثر ہو چکا ہے
اب میرا دل فنا ہو چکا
اب تیری چاہت سے بے پروا ہو چکا ہے
اب تو تم نے دیکھ لیا ناں۔۔۔؟
میں جھوٹ نہیں کہتی تھی
وہ سب باتیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم نے جنکا اعتبار نہیں کیا
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
کسی سے خود کو مگر کم نہیں بنائیں گے
ہمارے عہد میں ہر سو محبتیں ہوں گی
خزاں کا ہم کوئی موسم نہیں بنائیں گے
ہم ایک نقشہ بنائیں گے سارے ملکوں کا
کسی بھی ملک کا پرچم نہیں بنائیں گے
ہم اپنے علم سے مرہم بنائیں گے لیکن
ہم اپنے علم سے ایٹم نہیں بنائیں گے
ہماری سانس کو عادت نہ ہونے لگ جائے
کبھی بھی ہم کوئی ہمدم نہیں بنائیں گے
کبھی نہ راستہ روکیں گے جانے والوں کا
کہیں پہ چشمۂِ زم زم نہیں بنائیں گے
کسی سے دور بھی رہ کر خوشی سے جی لیں گے
کسی کی زیست جہنم نہیں بنائیں گے
جو دل کی صداؤں کی گہرائی ہے، وہی ہے۔
جو ہر گام پر ہے چراغِ نظر
مسافت میں رہتی جو بینائی ہے، وہی ہے۔
نہ پوچھو کہ کیسے وہ دل میں بسا ہے
کہ جذبوں کی ہر ایک رسوائی ہے، وہی ہے۔
کبھی ایک آہٹ، کبھی ایک خوشبو
یہ دنیا جو دل میں بس آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو خیالوں میں اکثر سنواروں
جو خوابوں میں چپکے سے آئی ہے، وہی ہے۔
میں جس کو دعاؤں میں اکثر پکاروں
مرے لب پہ ہر دم جو آئی ہے، وہی ہے۔
نہ چاہا کسی اور کو اس طرح سے
محبت کی میری جو سچائی ہے، وہی ہے۔
کہا جس کو میں نے کبھی زندگی
وہی میری سب کچھ، خدائی ہے، وہی ہے۔
وہی روشنی ہے، وہی خواب سا ہے
مری ہر نگاہوں کی بینائی ہے، وہی ہے۔
سنو لوگو! جس نے مجھے جان بخشا
مرے دل میں مظہر جو چھائی ہے، وہی ہے۔






