تم کسی سے پیار نا کرنا
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaسنو
تم کسی سے پیار نا کرنا
محبت سے کسی کے
دل پے وار نا کرنا
دل توڑنے والے اکثر
ُخود بھی ٹوٹ جاتے ہیں
تم اس بات کو فقط بات سمجھ کر
بھول جانے کی بھول نا کرنا
مت کرنا کسی کے ساتھ چلنے کا وعدہ
پھر تم ُاسے راستوں میں خوار نا کرنا
جو جیسے جی رہا ہے
تم ُاسے ویسے ہی جینے دو
مگر تم کسی کو
اپنی ذات کا عادی نا کرنا
کوئی بچھڑے تو سب
خوشیاں بھی بچھڑ جاتی ہے
تم کسی سے ہاتھ ملا کر ُجدا نا کرنا
خوش نظر آنے والے بھی
لوگ اکثر خوش نہیں ہوتے
تم کسی کی آنکھوں میں
اپنا عکس تلاش نا کرنا
ہنٹوں کے تبسم تو صرف
دیکھانے کے ہوتے ہے
تم ان پر مر مٹنے کی خطاء نا کرنا
جو ٹوٹ جایئں شاخوں سے گلاب
پھر تم ُان کے کھلنے کی جسجتوں نا کرنا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






