تم کسی طور کسی شکل نہیں کر سکتے
Poet: رازق انصاری By: رازق انصاری, اندور انڈیاتم کسی طور کسی شکل نہیں کر سکتے
اس زمیں سے مجھے بے دخل نہیں کر سکتے
ٹھیک ہے آپ میری جان تو لے سکتے ہیں
میری آواز مگر قتل نہیں کر سکتے
تجھکو نقصان تو پہنچانا بہت دور کی بات
تیری تصویر کو بد شکل نہیں کر سکتے
شعر کہنے کا سلیقہ ہے بہت بعد کی بات
ٹھیک سے ہم تو ابھی نقل نہیں کر سکتے
ایسے حالات میں ہم دل کو طلب کرتے ہیں
فیصلہ رکھ کے جہاں عقل نہیں کر سکتے
جو بھی بدلاﺅ ہے گھر میں وہ ہمیں کرنا ہے
ہم انظارِ نئی نسل نہیں کر سکتے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






