تم کو تو مجھ سے محبت تھی نہ
Poet: ارسلان حسینؔ By: Arsalan Hussain, Karachiمیں نے مانا کہ برحمی ہی سہی
مجھ میں چاہت کی کچھ کمی ہی سہی
میں تو مجرم تھا دل لگانے کا
غیر صُحبت کو آزمانے کا
بڑا سنگ دل تھا بے روا تھا نہ
میں ہر حوالے سے بے وفا تھا نہ
لیکن
تم تو مُحزب تھی اس زمانے میں
اپنے ہر عہد کو نبھانے میں
تم عشق کہ ہر رمز سے آشنا تھی نہ
تم تو پیکرِ وفا تھی نہ
پھر تم کیوں آج خفا بیٹھی ہو؟
تم کو تو مجھ سے محبت تھی نہ
پھر کیوں تم آج خفا بیٹھی ہو؟
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






