تم کہہ دو ُجدائی کا یہ آخری ماہ ہے
Poet: Arooj Fatima Lucky By: Arooj Fatima Lucky, K.S.Aکہتے ہیں دل سے دل راہ ہوتی ہے
تو کیا تمہارے دل کی میرے دل سے راہ ہے
نفرت تو جتاتے رہتے ہو سرے عام
سچ بتاؤں کیا تمہارے میں میری چاہ ہے
خاموش ہو جاؤں گئی میں پھر نہیں پوچھو گئی
تم کہہ دو ُجدائی کا یہ آخری ماہ ہے
شکر ہے وہ غفور و رحیم میری سن لیتا ہے
ورنہ ُاس کے آگئے میری کوئی جاہ ہے
میں ڈوبتے ڈوبتے الله نا کہتی تو کیا کہتی
کیا ُاس کے سوا کہیں پناہ ہے
وہ میری اچھائیوں یا ُبرائیوں کا کیا سمجھے
جن کے دل ہی غفلتوں سے سیاہ ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






