تم کیا جانو۔۔۔
Poet: roop zahra By: roop zahra, kirachiتم کیا جانو کہ تمھارے ھجر میں آھیں بھرتے
تڑپتے دل کو میں کتنی مشکل سے بہلاتی ھوں
تم کسی بھی شھر چلے جاؤ
کسی بھی دیس میں جا ٹھرو
تم واپس لوٹ کے آؤ گے
تمھیں میرے پاس ھی آنا ھے
تم میرے ھو صرف میرے ھو
مین لآکھ اسے سمجھاتی ھوں
پر دل وحشی ان باتوں کو
میری جان کہاں سمجھتا ھے
دن کا کوئی پہر ھو
یا رات کی کوئی ساعت ھو
تری یاد میں کھویا رھتا ھے
ساون کے مہکے موسم میں
دیکھ کے بوندیں بارش کی
تجھے ملنے کی ضد کرتا ھے
یونہی کسی سے باتوں میں
ترا ذکر کبھی جو آجائے
پنجرے میں قید پنچھی کی طرح
بےبس سا پھڑکتا ھے
تم کیا جانو اے ھمسفر
یہ کتنا تم پہ مرتا ھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






