تم کیا جانوں گیے ۔۔۔۔۔۔۔۔

Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabia

دوری کیا ہوتی ہے
مجبوری کیا ہوتی ہے
تم کیا جانوں گیے
کسی کو چاہو
خود سے زیادہ اور پھر
ُاسی سے منہ موڑنا پڑھیے
بے بسی کیا ہوتی ہے
تم کیا جانوں گیے
کسی کی راہوں میں
آنکھیں بچھنا اور
انتظار کا وقت ختم ہو جانا
اور ایک بھی آنسو کو
پلکوں پے نہ لانا
وہ مایوسی کیا ہوتی ہے
تم کیا جانوں گیے
کسی کو پیار کرنا
اور ہر حد سے بڑھ کے کرنا
اور وہی شخص ٹھکرا دے
تمہاری محبت جیسی
عبادت کو جھٹلا دے
وہ مرنے کی تمانا کیا ہوتی ہے
تم کیا جانوں گیے
یہ تنہا راتیں اور
آنسوں کی برساتیں اور
دنیا کے سامنے ہونٹوں پے مسکراٹیں
وہ دل کی ویرانی کیا ہوتی ہے
تم کیا جانوں گیے
ہاتھوں پے مہندی لگا کر
پھر صرف ایک ُسرخ
رنگ کے لیے ہزاروں
دعاوں کرنا اور پیار والی
مہندی کا رنگ پھر نا آنا
وہ دل کی شرمندگی کیا ہوتی ہے
تم کیا جانوں گیے

Rate it:
Views: 579
01 Nov, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL