تم کیا جانوں گیے ۔۔۔۔۔۔۔۔
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaدوری کیا ہوتی ہے
مجبوری کیا ہوتی ہے
تم کیا جانوں گیے
کسی کو چاہو
خود سے زیادہ اور پھر
ُاسی سے منہ موڑنا پڑھیے
بے بسی کیا ہوتی ہے
تم کیا جانوں گیے
کسی کی راہوں میں
آنکھیں بچھنا اور
انتظار کا وقت ختم ہو جانا
اور ایک بھی آنسو کو
پلکوں پے نہ لانا
وہ مایوسی کیا ہوتی ہے
تم کیا جانوں گیے
کسی کو پیار کرنا
اور ہر حد سے بڑھ کے کرنا
اور وہی شخص ٹھکرا دے
تمہاری محبت جیسی
عبادت کو جھٹلا دے
وہ مرنے کی تمانا کیا ہوتی ہے
تم کیا جانوں گیے
یہ تنہا راتیں اور
آنسوں کی برساتیں اور
دنیا کے سامنے ہونٹوں پے مسکراٹیں
وہ دل کی ویرانی کیا ہوتی ہے
تم کیا جانوں گیے
ہاتھوں پے مہندی لگا کر
پھر صرف ایک ُسرخ
رنگ کے لیے ہزاروں
دعاوں کرنا اور پیار والی
مہندی کا رنگ پھر نا آنا
وہ دل کی شرمندگی کیا ہوتی ہے
تم کیا جانوں گیے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






