تم ہمیں بھول بھی جاؤ تو کیا
Poet: UA By: UA, Lahoreتم ہمیں بھول بھی جاؤ تو کی
ہم تمہیں بھول نہیں پائیں گے
تم ہمیں یاد نہ کرو تو کی
ہم تمہیں یاد کئے جائیں گے
تم ہمیں حال دل نہ کہو تو کی
ہم تمہیں حالَ دل بتائیں گے
تم میرے خواب نہ دیکھو تو کیا
ہم تمہارے ہی خواب دیکھنا سجائیں گے
تم ہمارے نہیں ہوئے تو کی
ہم تمہارے سدا کہلائیں گے
تم وفا ہم سے نہ کرو تو کی
تم سے ہم تو وفا نبھائیں گے
تم ہمیں بھول بھی جاؤ تو کی
ہم تمہیں بھول نہیں پائیں گے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






