تماشہ نہ بن جائے
Poet: purki By: M.Hassan, karachiہر صبح صبحِ عاشور نہ ہوجائے
ہر شام شام غریباں نہ ہو جائے
میرا دشمن اور دلیر نہ ہوجائے
میری آنکھوں کی نمی نہ خشک ہوجائے
میری زمین، زمینِ کربلا نہ بن جائے
میری قوم، کہیں یزیدی قوم نہ بن جائے
جلد لگام دو ان بے درد قاتلوں کو
میرا وطن کہیں قبرستان نہ بن جائے
کب ہم آزاد ہونگے وحشیوں کے خونی پنجوں سے
بے وقت موتوں سے کہیں ماؤں کے گود نہ اجڑجائے
بے کسوں کی بے بسی جلد رنگ لائے گی
یہ انتخابات کہیں انقلاب کا پیش خیمہ نہ بن جائے
بہت تڑپا دیا ہے تم نے میرے قافلے کو
تجھے تڑپانے کا کہیں وہ لمحہ نہ آجائے
بہت خاندانوں کو جڑ سے اُکھاڑا ہے تم نے
تجھے جڑ سے اُکھاڑنے کا کہیں وہ گھنٹہ نہ آجائے
ظالموں کے لئے دنیا کی زندگی ایک کھیل تماشہ ہے
تیرا عمل خود تیرے لئے کہیں تماشہ نہ بن جائے
یتیموں،بیواؤں اور مظلوموں کی آہوں سے بچو پُرکی
ان کی بد دعاؤں سے کہیں تیرا گھر نہ جل جائے
وسائل سب تیرے اور مسائل سب میرے کھاتے میں
یہ کیسی جمہوریت ہے بے بس اور بے آسرا جانے
سر جوڑ کر بیٹھے ہیں ارباب اختیار آجکل
اِن بے ضمیروں کے ضمیرکہیں نہ جاگ جائے
کچھ حق ادا کردو اپنےاپنے منصب کا
یہ جنّت ہم سے کہیں چِھن نہ جائے
انتخابی جوڑ توڑ زوروں پر ہے آجکل
پرانے بازیگر کہیں بازی نہ لے جائے
عوام کس حال میں ہیں خود جانے یا خدا جانے
کہیں ایسا نہ ہو کہ سب کچھ بہا کر لے جائے
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






