تمام شہر ہی سُنسان دکھائی دیتا ہے

Poet: Mian Amar By: Mian Amar, Muzafar Garh

تمام شہر ہی سُنسان دکھائی دیتا ہے
یہاں ہر شخص پریشان دکھائی دیتا ہے

جزبہء انسانیت بھی ہو تو ہم جانیں
یوں تو ہر بشر انسان دکھائی دیتا ہے

چارہ گر کہتے ہیں کہ یہ مریضِ عشق
چند دنوں کا مہمان دکھائی دیتا ہے

وہ بولا تو حشر برپا کر دے گا ظالمو
اب جو مظلوم بے زبان دکھائی دیتا ہے

اُنہیں زمیں کے ذرے نظر آئیں کیسے
جنہیں ہر وقت آسمان دکھائی دیتا ہے

اک ایسی ہستی ہے جو ہم میں ہے پنہاں
باقی یہ سارا جہان دکھائی دیتا ہے

کیا خبر اُس کے باطن میں کیا ہے امر
وہ جو بظاہر مہربان دکھائی دیتا ہے

Rate it:
Views: 732
10 Jul, 2014
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL