تمام عُمر جِسے میں نے اعتبار دیا

Poet: رشید حسرتؔ By: رشید حسرتؔ, کوئٹہ

تمام عُمر جِسے میں نے اعتبار دیا
دغا سے تُم نے بیک لخت اُس کو مار دیا

وفائیں دی ہیں اُسے میں نے عُمر بھر لیکِن
صِلے میں اُس نے فقط مُجھ کو اِنتظار دیا

مُجھے قرِیب رکھو یا کہ تُم رکھو دُوری
تُمہاری چاہ پہ ہے، تُم کو اختیار دیا

یہ اُس کا خاص کرم ہے، عطا ہے مولا کی
دیا شعُور مُجھے اور اِفتخار دیا

نہِیں ہُوں تابع اگر ماں کے، میری بِیوی نے
عجیب زہر مِرے ذہن میں اُتار دیا

یہ وسوسہ ہے کہ یہ خواب یا حقِیقت ہے
امیرِ شہر نے لوگوں کو روز گار دیا

مِرے وجود میں بستا تھا اِک رشِید حسرتؔ
سو ایک عرصہ ہُؤا میں نے اُس کو مار دیا

Rate it:
Views: 373
08 Dec, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL