تمنا زندگی کی مجھے بار بار ہوتی
Poet: Syed Ishtiaq Hussain Kazmi By: Ulfat, Rawalpindiتمنا زندگی کی مجھے بار بار ہوتی
کاش میری ہر شب، شب انتظار ہوتی
میں تیری یاد میں اگر شمع بن کر نہ جلتا
میری بے قراری شاید میرا قرار ہوتی
کاش قتل کر کے مجھ کو تیری آنکھ نم ہوتی
آج ساری دنیا میری سوگوار ہوتی
تم مسکرا کے مجھ سے نہ وعدہ کرتے جاناں
شب انتظار اتنی نہ بے قرار ہوتی
میرے داغ دل مجھ کو اتنا تو بتا دے
آپ کے ہوتے بھی طبیعت کیوں نہیں سازگار ہوتی
تمہیں روٹھ جانے کا کبھی خیال تک نہ آتا
میرے دل کی یہ حالت نہ بار بار ہوتی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







