تمناؤں کو مجبوریوں کا ہار پہنا آیا ہوں

Poet: Muhammad Sualeh By: Muhammad Sualeh , Karachi

تمناؤں کو مجبوریوں کا ہار پہنا آیا ہوں
میں صبح بستر پہ اک خواب دفنا آیا ہوں

مخالف تم تھے ورنہ جیت مری تھی
اپنے ہاتھوں سےاپنے دلائل مٹا آیا ہوں

جو بہتر تھا ان کیلئے سو کیا کرتا میں
میں خود انکا اک اک خط جلا آیا ہوں

رورہے تھ ےرات گئے دیوانے یوں
ان سبھی کو اپنی سرگشت سنا آیا ہوں

تمہاری یادوں کےسمندر میں غوطہ لگاکے
لہروں میں کہیں خود کو جلا آیا ہوں

بنا دلیل جو مہر لگائی گئی ہے مجھ پہ
ان کو ان کی اوقات دیکھا آیا ہوں

آنسو تھے ، لہو تھا ، غضب تھا منظر
آئینے والے شخص کو میں رلا آیا ہوں

فکر کس کو یاں کہ مخالف ہیں کتنے
میں تو کل کے صالح کو جھٹلا آیا ہوں

Rate it:
Views: 497
02 Sep, 2018
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL