تمنائے وصل
Poet: Haider Ali By: Haider Ali, karachiاُلفتِ یار سے معمور ہے سینہ میرا
بِن تیرے مثلِ شبِ زار ہے جینا میرا
وصلِ جاناں کی تمنّا ہے دلِ عاجز میں
فُرقتِ یارمیں دُوبر ہوا جینا میرا
در و دیوار بھی وحشی مجھے اب لگتے ہیں
زوالِ وحشتِ در،تجھ سے ہے مِلنا میرا
اب تو آجا!کہ سِسک کر کہیں مَر جاؤں نہ
سُکونِ قلب تیرے دم سے حبیبہ میرا
ہوگا ایمان مکمل تیرے سبب اے رفیق
نقصِ ایماں سے پریشاں، دلِ فُغاں میرا
تُجھ کو پانے کی دُعا کرتا ہے رب سے حیدر
جو ہو قُبول،لگے پار سفینہ میرا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






