تمھاری مسکان نے..
Poet: M Usman Jamaie By: M Usman Jamaie, karachiمِرے یہ لفظ بے قیمت
جنھیں بے دام بھی کوئی نہیں لیتا
مِرے جذبوں کے ہیں پیکر
سراہنا کیا
کوئی ان پر توجہ بھی نہیں دیتا
مِرے سینے میں جلتے ہیں
دہک اُٹھتے ہیں تو غزلوں میں اور نظموں میں ڈھلتے ہیں
یہ ہے بازار، جس کے ضابطے سفاک ہوتے ہیں
سو میرے شعر گوداموں میں رکھے خاک ہوتے ہیں
مگر کل شب ہوا نے مجھ کو دھیرے سے بتایا ہے
دریچے میں ٹھہر کر چاند نے مژدہ سُنایا ہے
پَروں پر تتلیوں کے لکھا یہ سندیسہ آیا ہے
وہ میرے لفظ، میرے شعر پڑھ کر مسکرائی ہے
دمک اُٹھا ہے چہرہ اور حیا کی سُرخی آئی ہے
سو اب یہ لفظ میرے سونے اور ہیرے سے بڑھ کر ہیں
اب ان کے نرخ ساتوں آسمانوں سے بھی اوپر ہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






