تمھاری یاد میں شام و سحر گزرتے ہیں (گیت)
Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanتمھاری یاد میں شام و سحر گزرتے ہیں
اداس رہتے ہیں ہم اور آہ بھرتے ہیں
تمھاری ایک جھلک دیکھنے کی حسرت ہے
بتائیں کیسے ہمیں تم سے کتنی الفت ہے
اے جان جاناں بہت پیار تم سے کرتے ہیں
تمھاری یاد میں شام و سحر گزرتے ہیں
تمھارے حسن کا ہر پل خیال آتا ہے
حسین آنکھوں میں دل ڈوب ڈوب جاتا ہے
تمھاری شوخ اداؤں پہ ہم تو مرتے ہیں
تمھاری یاد میں شام و سحر گزرتے ہیں
تمھاری یاد میں شام و سحر گزرتے ہیں
اداس رہتے ہیں ہم اور آہ بھرتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






