تمھارے ھاتھ کی لسی
Poet: Ruqayyah Maalik By: Ruqayyah Maalik, Lahoreتمھارے ھاتھ کا کھانا تمھارے ھاتھ کی لسی
مجھے لگتی تھی میخانہ تمھارے ھاتھ کی لسی
وہ ماہ جون کی گرمی میں تپتی دھوپ میں چل کے
تھکے ہارے سے گھر جانا تمھارے ھاتھ کی لسی
وہ میرے ھاتھ سے اکثر ہی گر جانا گلاسوں کا
چھلکتی مثل پیمانہ تمھارے ھاتھ کی لسی
مجھے اب یاد آتی ھے وہ لذت ذائقے خوشبو
وہ ستو کا ہر اک دانہ تمھارے ھاتھ کی لسی
(گھر کی یاد آنے پر امی جان کے نام)
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






