تمھیں جب کبھی ملے وقت
Poet: arshiya hashmi By: عرشیہ ہاشمی, islamabad تمہیں جب کبھی ملے وقت تو
میرے دل میں جھانک کہ دیکھ لو
میری بند پلکوں کی آڑ میں
کبھی آ کہ سیر جہاں کرو
سنو میرے دل کی حکایتین
میری حسرتوں کے ا کہ گلاب لو
کہ
بھٹک بھٹک کہ ٹھہر گیا
دل ناتواں
کبھی دل پہ ہاتھ رکھو ذرا
تم ہی دل کو آ کہ قرار دو
جو مچل رہے تھے فراق میں
میرے آنسو
آنکھوں سے بہہ گۓ
رکھو اپنے لب چشماں
تمہیں جب کبھی ملے وقت تو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






