تمہاری آنکھیں خنجر سے کم نہیں
Poet: m.asghar mirpuri By: m.asghar mirpuri, birminghamیہ جو شکوےشکایتیں بار بار کرتے ہو
یوں ہمیں کیوں شرمسارکرتے ہو
ہم سےاتنی بےرخی بھی اچھی نہیں
ایسےکیوں ہمارا جینا دشوار کرتے ہو
تمہارےجی میں جوآئے کہہ دیتے ہو
ہماری باری آئےتوراہ فراراختیارکرتےہو
تمہارےپاس تو باتوں کا خزانہ ہے
مگر ہر ایک بات بیکار کرتے ہو
تمہاری آنکھیں خنجرسےکم نہیں
کاجل ڈال کرکیوں انہیں تلوارکرتےہو
نہ ملتے ہو نہ صاف انکارکرتے ہو
اصغر سے کیوں ایساسرکارکرتےہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







