تمہاری سرد مہری دیکھ کر کُچھ اچھا سا لگا ہے
Poet: Ammar Qureshi By: Ammar Qureshi, Karachiتمہاری سرد مہری دیکھ کر کُچھ اچھا سا لگا ہے
غم سے بوجھل دِل اب کُچھ ہلکا سا لگا ہے
آنسُو بہاتی تھیں گھٹائیں، سِسک رہی تھیں ہوائیں
کالی بدلیاں اب ہنس رہی ہیں، پتوں کا ہِلنا کُچھ نغمہ سا لگا ہے
کل کو تنہا بیٹھا تھا، بات کرنے کو ترس رہا تھا
آج تُمہیں نہ دیکھ کر لُطف کُچھ جُدا سا لگا ہے
جو کافی دِل جلا رہی تھی، جو سگریٹ سانسیں سُلگا رہی تھی
وہ کڑواہٹ مزہ دے رہی ہے، وہ شعلہ کُچھ دِیا سا لگا ہے
وہ جو خُود کو پانے کیلئے تُمہیں ڈُھونڈ رہا تھا
آج اپنا آپ اُسے کُچھ اپنا سا لگا ہے
زبردستی جِن یادوں سے تخیل کو آباد کِیا
مسرت کا وہ بوجھ کُچھ پُرانا سا لگا ہے
سبھی کہہ رہے تھے پَر تُو نہیں مانا عشقؔ
تعلق کو پیار کہنا اب احمقانہ سا لگا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






