تمہاری یاد کا جو سلسلہ نہیں ہوتا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, Kuala Lampurتمہارا قرب تھا یہ شعلہِ نہیں ہوتا
فصیلِ شہر سے باہر کھڑا نہیں ہوتا
یہ کہنا رات گذرتی ہے اب بھی آنکھوں میں
تمہاری یاد کا جو سلسلہ نہیں ہوتا
یہ کہنا چاند اُترتا ہے بام پر اب بھی
مگر وہ شبِ ماہ کا مزا نہیں ہوتا
یہ کہنا حسرتِ تعمیر اب بھی ہے دل میں
بنا لیا ہے مکاں تو ٹھکانہ نہیں ہوتا
یہ کہنا ہم نے ہی طوفاں میں ڈال دی کشتی
قصور اپنا ہے دریا کا بُرا نہیں ہوتا
یہ کہنا ہوگئے ہم اتنے مصلحت اندیش
چلے جو لُو تو اُسے خنک ہوا نہیں ہونا
یہ کہنا ہار نہ مانی کبھی اندھیروں سے
بُجھے چراغ تو دل کا بھلا نہیں ہوتا
یہ کہنا تم سے بچھڑ کر بکھر گیا تشنہ
کہ جیسے ہاتھ سے گر ا آئینہ نہیں ہوتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






