تمہارے بعد کا موسم
Poet: سیدہ سعدیہ عنبر جیلانی. By: سیدہ سعدیہ عنبر جیلانی, فیصل آباد، پنجاب، پاکستان.تمہارے بعد نہ بھایا تمہارے بعد کا موسم
نہ کوئی پھر مسکرایا تمہارے بعد کا موسم
سر ء شام نظر آیا جو ڈوبتا ہوا سورج
مجھے یاد آیا تمہارے بعد کا موسم
شب ء زندگی کو میسر ہمیشہ اداسیاں آئیں
بہت ساتھ نھایا تمہارے بعد کا موسم
نہ پھر بہار آئی نہ پھر گلوں پہ رنگ آی
نہ کوئی منا پایا تمہارے بعد کا موسم.
کبھی بارشیں یکدم کبھی یادوں کی ہوا آئی،
کبھی قاتل کبھی مسیحا تمہارے بعد کا موسم.
ہر پل میرے ساتھ ہر پل میرا نہ تھا،
ناآشنا تم سا تمہارے بعد کا موسم
ہر آہٹ تمہاری آمد کا گماں لائی
ہر دن رولایا تمہارے بعد کا موسم
اک تلخئ ایام اک دل کی تنہائی
ستم کیا کیا نہ گرایا تمہارے بعد کا موسم
اسکی سرمائی آنکھوں کی تیرگی کہہ گئ
بہت دشوار تھا آیا تمہارے بعد کا موسم
چاند بارش پھول اور خوشبو
تمہاری یاد دلایا تمہارے بعد کا موسم
بہت اجنبی بہت الجھا سا تھا عنبر
تمہیں کھو کر لگا تمہارے بعد کا موسم
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے







