تمہارے بن میں جیا نہیں تھا

Poet: کاشف لاشاری By: کاشف لاشاری, Ghous Pur Sindh

تُمھارے بِن مَیں جِیا نہیں تھا، مَرا نہیں تھا
کہ ہجر کا دُکھ کہا نہیں تھا، سُنا نہیں تھا

حسین لاکھوں جہاں میں دیکھے تھے مَیں نے، لیکن
کہیں بھی تُم سا دِکھا نہیں تھا، مِلا نہیں تھا

نہ ڈھونڈ پایا مَیں نقش تیرے کہیں بھی رہبر
کہ چلتے چلتے تھکا نہیں تھا، رُکا نہیں تھا

نصیب میں میرے سب لِکھا تُو نے اے خُدایا
وہ شخص ہی بس مِرا نہیں تھا، “لِکھا نہیں تھا”

غموں نے دل کو جلا کے پھر رات بھر جلایا
کہ دیپ بھی یوں جلا نہیں تھا ! بُجھا نہیں تھا

سُکون بھی تھا، قرار بھی تھا اُنھی دِنوں میں
یہ پیار جس دم کِیا نہیں تھا، ہُوا نہیں تھا

زمانے کے ساتھ جو چلے پائے درد، کاشف
جہان سارا مِرا نہیں تھا، تِرا نہیں تھا

Rate it:
Views: 484
15 Nov, 2017
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL