تمہارے بنا میں ادھوری یہاں (گیت)
Poet: UA By: UA, Lahoreتمہارے بِنا میں ادھوری یہاں
میرے بِنا تم ادھورے وہاں
کیوں ختم کرتے نہیں دوریاں
ایسی بھی کیا ہیں مجبوریاں
کیسے کہوں کیسے جیتی ہوں
کیسے میں اشکوں کو پیتی ہوں
دردِ جدائی کی شدت کو میں
لفظوں میں کیسے کرونگی بیاں
تمہارے بِنا میں ادھوری یہاں
میرے بِنا تم ادھورے وہاں
کیوں ختم کرتے نہیں دوریاں
ایسی بھی کیا ہیں یہ مجبوریاں
قسمت کے آگے ہاری ہوں
تم ہو میرے میں تمہاری ہوں
اب لوٹ بھی آؤ جانِ جہاں
ڈھونڈوں کہاں تمہیں مہرباں
تمہارے بِنا میں ادھوری یہاں
میرے بِنا تم ادھورے وہاں
کیوں ختم کرتے نہیں دوریاں
ایسی بھی کیا ہیں یہ مجبوریاں
دردِ جدائی نہ سہہ پاؤں گی
تمہارے بِنا اب نہ رہ پاؤں گی
لے جاؤ مجھکو میرے محرماں
تم ہو جہاں رہوں میں وہاں
تمہارے بِنا میں ادھوری یہاں
میرے بِنا تم ادھورے وہاں
کیوں ختم کرتے نہیں دوریاں
ایسی بھی کیا ہیں یہ مجبوریاں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






