تمہارے روپ سے بڑھ کر کہیں جمال نہیں
Poet: Fakhira Batool By: Shazia Hafeez, Attockتمہارے روپ سے بڑھ کر کہیں جمال نہیں
کسی کے لفظ ہیں، میری تو کچھ مجال نہیں
کسی کی باتوں میں آکر اسے گنوانا مت
یہ دل تو گوہر نایاب، یہ سفال نہیں
فلک ہے ان کا ٹھکانہ وہاں چمکتے ہیں
ٹھہر گئے ہیں جو پلکوں پہ تو کمال نہیں؟
کہاں تمہاری نظر میں میرا مقام بھلا
مگر یوں دل سے تو اپنے مجھے نکال نہیں
کہا، یہ تھام لی دیوار تو یونہی ورنہ
نہیں، بچھڑنے کا مجھ کو ذرا ملال نہیں
زمیں سے کرچیاں کیوں چن رہی ہے آج بتول
نہیں کہا تھا تجھے دل کو سنھبال، نہیں؟
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






