تمہارے شہر کا مو سم بڑا سہا نا لگے
Poet: Qaisar Jafferi By: naila rani riasat ali, Karachiتمہارے شہر کا مو سم بڑا سہا نا لگے
میں اک شام چرا لو ں گر برا نہ لگے
تمہارے بس میں اگر ہے تو بھول جاو ہمیں
تمہیں بھلا نے میں شا ئد ہمیں ز ما نہ لگے
جو ڈو بنا ہے تو ا تنے سکو ں سے ڈوبو
کہ آس پاس کی لہرو ں کو بھی پتا نہ چلے
اسی لیئے تو کھلا ئے ہیں پھول صفحو ں پر
ہمیں جو ز خم لگے ہیں وہ دو ستا نہ لگے
وہ اک ا ستعا رہ کہ جو را ستہ د کھائے ہمیں
وہ اک ا شارہ کہ جو حرف مجر ما نہ لگے
نہ جانے کب سے کو ئی میرے ساتھ ہے
جو ا جنبی نہ لگے اور آشنا نہ لگے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






