تمہارے عشق میں بھی جاں جہاں بناتے ہیں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیابدن سے روح تلک ہم کو جاں بناتے ہیں
تمہارے عشق میں بھی جاں جہاں بناتے ہیں
ہوا کے ساتھ اڑی ہے محبتوں کی مہک
یہ تذکرے مرے جو آسماں بناتے ہیں
وہ قحط لطف ہے ہر دم ترے فقیروں پر
ہزار وسوسہ آتش بجاں بناتے ہیں
تمہارے حسن کی تشبیب ہی کہی ہے ابھی
چراغ جلنے لگے آشیاں بناتے ہیں
جب اس کی بزم سے چل ہی پڑے تو سوچنا کیا
کہ عرصۂ غم ہجراں کہاں بناتے ہیں
بجا ہے زندگی سے ہم بہت رہے ناراض
یہ کیا طلسم ہے کیا امتحاں بناتے ہیں
کبھی وہ چہرہ ہی وشمہ دکھائی دیتا ہے
گلی سے روز نیا کارواں بناتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






