تمہارے لئے کبھی
Poet: UA By: UA, Lahoreتم مجھے آواز دو آزماؤ تو کبھی
ہم چلے آئیں گے تم بلاؤ تو کبھی
تمہیں کھو کر میرا جیون ادھورا ہو گیا ہے
میری کمی محسوس ہو گی تم کو بھی کبھی
تمہارے بنا میرا وجود تاریک رات سا
بنا چاند کے نکھری ہے رات بھی کبھی
تمہارے لئے کھلا ہے اس دل کا دروازہ
بند نہ ہو سکے گا یہ تمہارے لئے کبھی
تیر شمشیر کیا حائل ہوں انکے راستے میں
اہل وفا تو موت سے بھی ڈرتے نہیں کبھی
انداز وفا دیکھئے ہم نے جسے چاہا
وہ سراب صحرا میں بھی نہ ملا کبھی
عظمٰی ہمارا زور قلم کام آگیا
وہ ہمارے ہیں جو غیر تھے کبھی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







