تمہارے منہ کے میٹھے دو بول کافی ہیں
Poet: Arooj Fatima ( Lucky ) By: AF (Lucky ), K.S.Aمیرے ذہین سے دل کے سوال کافی ہیں
جو رہے دل ہی دل میں وہ ملال کافی ہیں
تمہاری ُجدائی کی کیا اوقات ہے جاناں
دنیا کے نظروں کے وبال کافی ہیں
تم لوٹنا نہ چاہو تو الگ بات ہے
ورنہ میں نے کئے خط ارسال کافی ہیں
اک چائے کا خط لیے تمہاری حسرت کرنا
میں نے ایسے بھی گزائے سال کافی ہیں
تمہارے انتظار میں رات بھر جاگتے رہنا
جبکہ نیند کے آئے بوجال کافی ہیں
تم نے کیا ہی نہیں کبھی کھل کر اظہار لکی
ورنہ قدرت نے دیئے وصال کافی ہیں
یقین جانو میرا صدیوں کا غم مٹ جائے
تمہارے منہ کے میٹھے دو بول کافی ہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






