تمہی یاد آتے ہو
Poet: UA By: UA, Lahoreیادوں کے جگنو آنکھوں میں چمکتے ہیں
جب سوچوں کوئی بات تمہی یاد آتے ہوں
یادوں کے ستارے آنکھوں میں دمکتے ہیں
جب سوچوں کوئی بات تمہی یاد آتے ہو
یادوں کی کلیاں دل میں کِھلنے لگتی ہیں
جب دیکھوں میں برسات تمہی یاد آتے ہو
اطراف میں پھیلی باد مہکنے لگتی ہے
جب چھیڑے کوئی ساز رتمہی یاد آتے ہو
جوں چاند گگن پہ جلوہ نما ہو جاتا ہے
تاروں سے کرنے بات تمہی یاد آتے ہو
آنگن میں سنہری رات اترنے لگتی ہے
تنہائی بھی ایسے میں سنورنے لگتی ہے
آنکھوں میں تمہارے خواب ابھرنے لگتے ہیں
جب اوڑھے چاندنی رات، تمہی یاد آتے ہو
یادوں کے جگنو آنکھوں میں چمکتے ہیں
جب سوچوں کوئی بات تمہی یاد آتے ہوں
یادوں کے ستارے آنکھوں میں دمکتے ہیں
جب سوچوں کوئی بات تمہی یاد آتے ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







