تمہیں تو ہو
Poet: palak gopalganjvi By: imran nazir, gopalganj,biharقاموسِ غم کا کنار ا تمہیں تو ہو
اس دھر میں میرا سہارا تمہیں تو ہو
سراہوں تجهے اپنے سینے سے لگائوں
کی میرے لئے نبه کا تارا تمہیں تو ہو
آنکهیں بهٹک رہی تهی کسی سنبل کے واسطے
تب جاکے ملے آپ، ہمارا تمہیں تو ہو
کوئ نہیں تها اپنا اس دنیا کے بهیر میں
اب میرے لئے سب سے پیارا تمہیں توہو
سوئے ہوئے تهے سارے جو ارمان جگر میں
ان ساری حسرتوں کو سنوارا تمہیں توہو
سراہا جسے خوابوں خیالوں کے بهیر میں
وه دید ، وه منظر ، وہ نظارہ تمہیں تو ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






