تمہیں جب کبھی ملیں فرصتیں میرے دل سے بوجھ اتار دو

Poet: By: AAZAD ALI, HUB CHOWKI

تمہیں جب کبھی ملیں فرصتیں میرے دل سے بوجھ اتار دو ۔۔۔
میں بہت دنوں سے اداس ہوں مجھے کوئی شام ادھار دو !

مجھے اپنے روپ کی دھوپ دو کہ چمک سکیں میرے خال و خد۔۔۔
مجھے اپنے رنگ میں رنگ دو میرے سارے زنگ اتار دو !

کسی اور کو میرے حال سے نہ غرض ہے کوئی نہ واسطہ ۔۔۔
میں بکھر گیا ہوں سمیٹ لو ، میں بگڑ گیا ہوں سنوار دو !

میری وحشتوں کو بڑھا دیا ہے جدائیوں کے عزاب نے
میرے دل پہ ہاتھ رکھو ذرا میری دھڑکنوں کو قرار دو !

تمہیں صبح کیسی لگی کہو میری خواہشوں کے دیار کی ۔۔۔
جو بھلے لگی تو یہیں رہو اسے چاہتوں سے نکھار دو !

وہاں گھر میں کون ہے منتطر کہ ہو فکر دیر سویر کی ۔۔۔
بڑی مختصر سی یہ رات ہے اسے چاندنی میں گزار دو !

کوئی بات کرنی ہے چاند سے، کسی شاخسار کی اوٹ میں۔۔
مجھے راستے میں یہیں کہیں کسی کنج گل میں اتار دو

Rate it:
Views: 3370
15 Aug, 2012
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL