تمہیں دل سے بھلانے میں ابھی کچھ وقت لگے گا
Poet: UA By: UA, Lahoreتمہیں دل سے بھلانے میں ابھی کچھ وقت لگے گا
سب ہی یادیں مٹانے میں ابھی کچھ وقت لگے گا
بڑی چاہت سے جو تم نے میرے دل میں جگایا ہے
وہ ہی جذبہ سلانے میں ابھی کچھ وقت لگے گا
جلا ڈالا ہے ایک پل میں جس نے روح و بدن کو
اس آتش کو بجھانے میں ابھی کچھ وقت لگے گا
بہت نزدیک آ ئے ہیں وہ جو دل میں سمائے ہیں
ان ہی سے دور جانے میں ابھی کچھ وقت لگے گا
محبت کے بنا بھی زندگی اچھی گزرتی ہے
یہی خود کو سمجھانے میں ابھی کچھ وقت لگے گا
پرانے مسئلے اپنے سبھی سلجھا کے بیٹھے ہیں
نئی الجھن سلجھانے میں ابھی کچھ وقت لگے گا
بہت ناراض ہے عظمٰی میرا دل مجھ سے آج کل
میرے دل کو منانے میں ابھی کچھ وقت لگے گا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






