تمہیں کس نے کہا تھا؟
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, Moscowتمہیں کس نے کہا تھا؟
ہم کو ایسے آزمانے کو
ہمیں ناحق ستانے کو
کہاں ہو تم صدا تو دو
ہمیں دل کا پتا تو دو
ہمیں تم نے کہا تھا
دل میں بس اک عکس ہے تیرا
کہ تیرے بِن ہمارے دِل کا آنگن
دشتِ ویراں ہے
تمہارا ساتھ ہو تو
زندگی میں بھی بہار آئے
دلِ خوش فہم میرا
اب تلک ہے بس اسی پل کا
جو شاید کھو گیا ہے
بے یقینی کے سمندر مین
یہ تم نے ہی کہا تھا
زندگی بس تم ہو لیکن
خیر چھوڑو
یہ تو ما ضی تھا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






