تمہیں ہمراہ پائیں گے
Poet: zee By: Muhammad Zubair, Multanجب الوداع کہنے لگو تو
مُسکرادینا
ستارہ ساتھ کردینا
کہ راستے میں اندھیرے بھی توآئیں گے
کسی حرفِ دُعا کا استعارہ ساتھ کردینا
ہمیں زادِ سفر کو
تمہاری یاد کی سوغات کافی ہے
تمہارے ساتھ میں گذرا ہوا پل بھی غنیمت ہے
کہیں ٹھہرے جو رستے میں
سنہری یاد کی صورت
تمہیں ہمراہ پائیں گے
تو ہم تنہا کہاں ہوں گے
مگر پھر بھی
ہمیں جب الوداع کہنے لگو تو
مُسکرادینا
ستارہ ساتھ کردینا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






