تمہیں یہ کون کہتا ہے
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), K.S.Aتمہیں یہ کون کہتا ہے
کہ محبت میں نہیں کرتی
میری آنکھیں میری صدا ہے
میری مسکراہٹ میں
اک حیاء ہے
میرے لبوں پر
تمہارے لیے دعا ہے
میری رات میرے دن میں
صرف تمہارا ہی گمان ہے
تم کب آؤ گئے لوٹ کر
کہ اب تو سولی پر میری جان ہے
تاریک رات میں
یادوں کی گھٹا ہے
دنیا کے طعنوں سے
مجھے ملتی سزا ہے
میرے اندر خواہشوں کا سما ہے
پیار کی اک الگ دنیا میں
بس توں ہی میرا جہاں ہے
میرے قلم سے لے کر سیاہی تک
کاغذ پر اترتے ہر حروف میں
تیرا ہی نشاں ہے
تمہیں یہ کون کہتا ہے
کہ محبت میں نہیں کرتی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






